بنگلورو،3؍ستمبر (ایس او نیوز)کورونا سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہیلتھ کیر ورکرس کو رہتا ہے۔ریاست کرناٹک میں اب تک 12,260ہیلتھ کیر ورکرس کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔جن میں 46ہیلتھ کیر ورکرس فوت ہوگئے۔ملک بھر میں مہاراشٹرا کے بعد کرناٹک کا دوسرا نمبر ہے جہاں اتنی تعداد میں ہیلتھ کیر ورکرس کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ سے جاری ڈاٹا کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والے ہیلتھ کیر ورکرس میں ڈاکٹرس، نرس، لیاب ٹیکنیشین، انفرمیٹس، ان خدمات سے جڑے ہیلتھ ورکرس اور ڈی گروپ کے ملازمین بھی شامل ہیں۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق 25؍اگست تک متاثرین کی جو فہرست تیار کی گئی اس کے تحت 1,07,100نمونے ہیلتھ کیر ورکرس کے لئے گئے اور ان کا ٹسٹ بھی کروایاگیا جن میں 11% ہیلتھ ورکرس پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ شہر بنگلور کے تمام کووڈ کیر اسپتالوں میں ہاسپٹل انفیکشن کنٹرول کمیٹیاں ہیں، اس کے باوجود ہیلتھ کیر ورکرس انفیکٹ ہورہے ہیں۔
اسپتالوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی ای کے استعمال کے بغیر جو ہیلتھ کیر ورکرس پراکٹس کرتے ہیں وہ زیادہ انفیکٹ ہورہے ہیں۔ ہیلتھ کیر کمشنر پنکج کمار پانڈے نے کہا کہ ہر پندرہ دنوں میں ہیلتھ کیر ورکرس کے لئے تربیت کا اہتمام کیاجاتا ہے اور انہیں اینٹی باڈی کٹس بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔بنگلور میں کووڈ19کیر بڑے اسپتالوں میں زیادہ ہیلتھ کیر ورکرس متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ شہر میں جو بڑے اسپتال ہیں ان کے اکثر اسٹاف کا ٹسٹ پازیٹیو پایا گیا ہے۔ان بڑے کووڈ اسپتالوں کا کتنا اسٹاف کووڈ پازیٹیو ہے اس کی تفصیل نہیں مل سکی۔
ذرائع کے مطابق راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیسیز کے 60ملازمین کووڈ پازیٹیو تھے جبکہ کے سی جنرل اسپتال کے 84ملازمین سی وی رامن جنرل اسپتال کے 21ملازمین کورونا پازیٹیو پائے گئے۔راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیسیز کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سی ناگراج نے بتایا کہ میرے خیال میں اس اسپتال کا اسٹاف کووڈ وارڈ سے انفیکٹ نہیں ہوا ہے۔جو مریض کووڈ پازیٹیو ہوتے ہیں ان سے ابتداء میں ہمارے ڈاکٹرس مریضوں کے اٹینڈرس سے بات کرتے ہیں۔اس دوران وہ ماسک کا استعمال نہیں کرتے اس لئے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔لیکن ابھی حقائق کا پتہ لگانا ہے۔
سی وی رامن جنرل اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایچ ڈی آر رادھا کرشنا نے کہا کہ ان کے اسپتال میں لئے گئے 12,384نمونوں میں سے 1,774 کا ٹسٹ پازیٹیو نکلا حالانکہ ہم اپنے اسٹاف کو بار بار پی پی ای کٹ استعمال کرنے کا طریقہ اور اس کی اہمیت سے متعلق ویڈیوس دکھاتے رہتے ہیں۔انہوں نے ایک مشورہ دیا کہ کووڈ مریضوں کا علاج اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں پر سینی ٹائزر کا اسپرے ضرور کرنا چاہئے۔